Sponsored
Sponsored
Free Edition
Verified Content
Bikhri Hai Meri Dastaan / بکھری ہے میری داستاں
Overview
عالی جناب محمد اظہار الحق کی نظم و نثر کا ایک زمانہ قائل ہے۔ دنیا اخبار میں شائع ہونے والے ان کے بےشمار کالم ادب پاروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کتاب قبلہ گاہی کی آپ بیتی ہے، جگ بیتی بھی۔ اس سے زیادہ کیا کہا جائے کہ یہ رواں، سادہ و شگفتہ، حقیقت آمیز، عبرت آموز، اثر و تاثر سے لب ریز تحریر، ایک حق شناس و حق نیوش شاعر و ادیب کی نوشتہ ہے... اور کیا چاہیے۔
(شکیل عادل زادہ)
جیسے درسی کتب میں طالبِ علموں کی ذہانت کا امتحان لینے کے لیے پوچھا جاتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب بیان کریں یا ہندوستان پر اتنے حملوں کی وجوہات کیا تھیں، اسی طرح اُن سے اگر یہ پوچھا جائے کہ خودنوشتوں کے لکھنے کے اسباب بیان کریں تو ان کا جواب کچھ یوں ہو گا... (1) ادیب کے پاس لکھنے کو کچھ باقی نہیں رہتا تو وہ خود نوشت لکھ دیتا ہے۔ (2) خودنوشت عام طور پر عمر کے آخری حصّے میں لکھی جاتی ہے۔ (3) اگر مصنف کبھی چھوٹا موٹا افسر رہا ہے تو وہ اپنی افسری کی دھاک بٹھانا چاہتا ہے، اور یہ دھاک بیٹھتی نہیں، اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ (4) ادیب نے اپنے ہم عصر ادیبوں کے لتّے لینے ہوتے ہیں۔ یہ لتّے کس طرح لیے جاتے ہیں اس کا کچھ پتا نہیں ہے۔ (5) علاوہ ازیں مصنف نے اپنے کم از کم سترہ فرضی عشقوں کی روداد بیان کرنی ہوتی ہے۔ اظہار الحق کی آپ بیتی مندرجہ بالا اسباب پر پوری نہیں اُترتی۔ یہ میری پسندیدہ خود نوشت ’’جہانِ دانش‘‘ کی مانند ایک ’’جہانِ اظہار‘‘ ہے۔ آپ اس جہان میں ایک مرتبہ اتر جائیے تو آپ پر کئی جہان منکشف ہوتے چلے جائیں گے۔ اظہار اُن چند شاعروں میں شامل ہے جو بہت زورآور اور مؤثر نثر لکھنے پر قادر ہیں... اور مجھے امید ہے کہ یہ خود نوشت ان کا ’’سوان سانگ‘‘ یا راج ہنس کا آخری گیت ثابت نہیں ہو گی۔ اُن کا تخلیقی پرندہ ہمیشہ کی طرح فضائے بسیط میں پرواز کرتا رہے گا۔
(مستنصر حسین تارڑ)
(شکیل عادل زادہ)
جیسے درسی کتب میں طالبِ علموں کی ذہانت کا امتحان لینے کے لیے پوچھا جاتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب بیان کریں یا ہندوستان پر اتنے حملوں کی وجوہات کیا تھیں، اسی طرح اُن سے اگر یہ پوچھا جائے کہ خودنوشتوں کے لکھنے کے اسباب بیان کریں تو ان کا جواب کچھ یوں ہو گا... (1) ادیب کے پاس لکھنے کو کچھ باقی نہیں رہتا تو وہ خود نوشت لکھ دیتا ہے۔ (2) خودنوشت عام طور پر عمر کے آخری حصّے میں لکھی جاتی ہے۔ (3) اگر مصنف کبھی چھوٹا موٹا افسر رہا ہے تو وہ اپنی افسری کی دھاک بٹھانا چاہتا ہے، اور یہ دھاک بیٹھتی نہیں، اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ (4) ادیب نے اپنے ہم عصر ادیبوں کے لتّے لینے ہوتے ہیں۔ یہ لتّے کس طرح لیے جاتے ہیں اس کا کچھ پتا نہیں ہے۔ (5) علاوہ ازیں مصنف نے اپنے کم از کم سترہ فرضی عشقوں کی روداد بیان کرنی ہوتی ہے۔ اظہار الحق کی آپ بیتی مندرجہ بالا اسباب پر پوری نہیں اُترتی۔ یہ میری پسندیدہ خود نوشت ’’جہانِ دانش‘‘ کی مانند ایک ’’جہانِ اظہار‘‘ ہے۔ آپ اس جہان میں ایک مرتبہ اتر جائیے تو آپ پر کئی جہان منکشف ہوتے چلے جائیں گے۔ اظہار اُن چند شاعروں میں شامل ہے جو بہت زورآور اور مؤثر نثر لکھنے پر قادر ہیں... اور مجھے امید ہے کہ یہ خود نوشت ان کا ’’سوان سانگ‘‘ یا راج ہنس کا آخری گیت ثابت نہیں ہو گی۔ اُن کا تخلیقی پرندہ ہمیشہ کی طرح فضائے بسیط میں پرواز کرتا رہے گا۔
(مستنصر حسین تارڑ)
36,114 currently reading
152,889 want to read
Sponsored
Sponsored
Book details & editions
| ISBN | 9696626258 |
| Publisher | Book Corner Publications |
| Publication date | September 2025 |
| Language | URD |
| Pages | 336 pages |
Sponsored
Sponsored
Ratings & Reviews
5 ★
42%
4 ★
34%
3 ★
16%
2 ★
5%
1 ★
3%
3.50
BlueReads Choice
Sponsored
Write a Review
Community Reviews
Sort by: